نمازِ تراویح کا شرعی حکم، رکعات، فضیلت اور طریقہ
نمازِ تراویح ایک اہم عبادت ہے جو رمضان المبارک کی راتوں میں ادا کی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں مختلف فقہی مکاتبِ فکر میں تفصیلی بحث موجود ہے۔ اس مضمون میں ہم نمازِ تراویح کی حیثیت، رکعات کی تعداد، اس کے فضائل اور طریقہ کار پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
نمازِ تراویح کا شرعی حکم
نمازِ تراویح سنتِ مؤکدہ ہے، یعنی نبی کریم ﷺ نے اس کا اہتمام فرمایا اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی۔ اس کا ادا کرنا بہت بڑا اجر و ثواب رکھتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
(بخاری: 2008، مسلم: 759)
ترجمہ: "جس نے رمضان میں قیام (تراویح) ایمان اور اجر کی نیت سے کیا، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
نمازِ تراویح کی رکعات کی تعداد
نمازِ تراویح کی رکعات کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:
- جمہور فقہاء کے نزدیک **20 رکعات** سنتِ مؤکدہ ہیں۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، ص 117)
- احناف، شوافع اور حنابلہ کے نزدیک 20 رکعات مسنون ہیں۔ (المجموع للنووی، 3/526)
- امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک مدینہ کے عمل کے مطابق **36 رکعات** پڑھنا افضل ہے۔
- بعض اہل حدیث علماء 8 رکعات کے قائل ہیں، لیکن جمہور علماء اسے مکمل نہیں سمجھتے۔
نمازِ تراویح باجماعت یا انفرادی؟
نمازِ تراویح کا باجماعت ادا کرنا افضل ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس نے امام کے ساتھ قیام (تراویح) مکمل کیا، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھا جاتا ہے۔"
(ترمذی: 806، ابو داود: 1375)
نمازِ تراویح کا صحیح طریقہ
نمازِ تراویح کا مسنون طریقہ درج ذیل ہے:
- نمازِ عشاء کے بعد باجماعت یا انفرادی 20 رکعات دو، دو رکعت کر کے ادا کی جاتی ہیں۔
- ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔
- نماز کے بعد وتر ادا کیے جاتے ہیں۔
- امام کو چاہیے کہ قرات میں توازن رکھے، نہ بہت لمبی ہو اور نہ بہت مختصر۔
نمازِ تراویح کی فضیلت
- رمضان کی راتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی رحمت نازل فرماتا ہے۔
- یہ مغفرت اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔
- نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے قیام اللیل کیا، اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔" (بخاری: 37)
نتیجہ
نمازِ تراویح سنتِ مؤکدہ ہے اور اس کی 20 رکعات پڑھنا جمہور علماء کے نزدیک صحیح ترین عمل ہے۔ اسے باجماعت ادا کرنا افضل ہے اور یہ رمضان کی راتوں میں خصوصی رحمت اور مغفرت کا ذریعہ ہے۔
