اسلامی بینکاری اور فنانس کے اصول
مقدمہ
اسلامی بینکاری اور فنانس کا نظام، سود سے پاک مالیاتی معاملات پر مبنی ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ اس مضمون میں ہم اسلامی بینکاری کے بنیادی اصولوں کا جائزہ لیں گے اور مفتی محمد تقی عثمانی کی کتب کے حوالہ جات پیش کریں گے۔
سود کی ممانعت
اسلام میں سود (ربا) کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (البقرہ: 278)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔"
اسلامی مالیاتی معاہدات
اسلامی بینکاری میں مختلف مالیاتی معاہدات استعمال ہوتے ہیں جو شریعت کے مطابق ہیں:
مضاربہ
مضاربہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسرا فریق اس سرمایہ سے کاروبار کرتا ہے اور نفع میں دونوں شریک ہوتے ہیں۔
مشارکہ
مشارکہ میں دو یا زیادہ فریق سرمایہ اور محنت دونوں فراہم کرتے ہیں اور نفع و نقصان میں مشترکہ طور پر شریک ہوتے ہیں۔
مرابحہ
مرابحہ ایک بیع کی قسم ہے جس میں فروخت کنندہ خریدار کو اصل قیمت اور منافع کی صراحت کے ساتھ مال فروخت کرتا ہے۔
مفتی محمد تقی عثمانی کی کتب کے حوالہ جات
مفتی محمد تقی عثمانی نے اسلامی بینکاری پر متعدد کتب تحریر کی ہیں جو اس موضوع پر مستند مانی جاتی ہیں:
اسلامی بینکاری کی بنیادیں
اس کتاب میں اسلامی بینکاری کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اسلام اور جدید معیشت و تجارت
یہ کتاب اسلامی معیشت اور تجارت کے اصولوں پر روشنی ڈالتی ہے اور جدید مالیاتی مسائل کا حل پیش کرتی ہے۔
نتیجہ
اسلامی بینکاری کا نظام سود سے پاک مالیاتی معاملات پر مبنی ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ اس نظام کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے مستند کتب کا مطالعہ ضروری ہے۔