تجارت میں حلال اور حرام - اسلامی اصول اور ہدایات
اسلام میں تجارت کو ایک عظیم پیشہ اور حلال رزق حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے، مگر اس میں حلال و حرام کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بہترین کمائی وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھوں سے کمائے اور ہر جائز تجارت۔ (مسند احمد)
📌 1️⃣ حلال کمائی کے اصول
اسلام میں حلال کمائی کے چند بنیادی اصول ہیں:
- 🔹 لین دین میں سچائی اور دیانت داری ہونی چاہیے۔
- 🔹 کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی، جھوٹ اور فریب سے اجتناب کرنا چاہیے۔
- 🔹 ناپ تول میں کمی نہ کی جائے۔ (المطففین: 1-3)
- 🔹 حلال اور جائز چیزوں کی خرید و فروخت کی جائے۔
📌 2️⃣ حرام کمائی کے ذرائع
اللہ تعالیٰ نے بعض کاروباری ذرائع کو حرام قرار دیا ہے، جن میں شامل ہیں:
- ❌ سود - اللہ نے فرمایا: "سود کھانے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔" (البقرہ: 275) - سود کی حقیقت
- ❌ دھوکہ دہی - نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو دھوکہ دے، وہ ہم میں سے نہیں۔" (مسلم: 101)
- ❌ حرام اشیاء کی تجارت - شراب، جوا، خنزیر اور دیگر ناجائز اشیاء کی خرید و فروخت منع ہے۔
- ❌ جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنا - حدیث میں آتا ہے: "جھوٹی قسم مال کو فروخت تو کر دیتی ہے، مگر برکت کو ختم کر دیتی ہے۔" (بخاری: 2087)
📌 3️⃣ اسلامی تجارت کی خصوصیات
✅ اسلامی تجارت کے کچھ نمایاں اصول درج ذیل ہیں:
- 💠 دیانت داری - تجارت میں ایمانداری ہونی چاہیے۔
- 💠 حقوق العباد - کاروبار میں کسی کا حق نہ مارا جائے۔
- 💠 زکوٰۃ - نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تمہارے مال میں زکوٰۃ کا حق ہے۔" (بخاری: 1395) - اسلامی معیشت اور زکوٰۃ
- 💠 اعتدال - قیمتوں میں زیادتی اور ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کرنا۔
